حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کی سپریم کونسل کے رکن، آیت اللہ محمود عبداللہی نے ہفتہ دفاع مقدس کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رہبر انقلاب کے اس بیان کہ ’’اللہ کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق، ایران دنیا کی پہلی طاقت ہے‘‘ کو تاریخی تجربات اور دینی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران کی طاقت اور پیش رفت سے متعلق حقائق عوام اور نوجوان نسل تک پہنچائیں، تاکہ یہ بات محض ایک دعویٰ بن کر نہ رہ جائے۔
آیت اللہ عبداللہی نے قرآن مجید کی آیت "وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ" ’’سست نہ پڑو اور غم نہ کرو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب رہو گے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد پر ایمان اور بھروسہ اہل ایمان کو مشکلات کے مقابلے میں ثابت قدم رکھتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت دو طرح کی ہے؛ ایک عام عنایت، جس سے تمام مخلوقات فائدہ اٹھاتی ہیں، اور دوسری خاص عنایت، جو ایمان، استقامت اور قربانی کے راستے پر چلنے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے ایران کے آٹھ سالہ دفاع مقدس اور فتح خرمشہر سمیت مختلف کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشکلات اور دشمنوں کی حمایت کے باوجود ایران نے اللہ پر بھروسے کے ساتھ استقامت کا مظاہرہ کیا۔
آیت اللہ عبداللہی نے شہید سید حسن نصراللہ کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اثر و رسوخ محض مادی وسائل کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ان کے ایمان اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد سے وابستہ تھا۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی کے موجودہ مؤقف کی بنیاد دینی تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول ہیں، جن کی مثالیں تاریخ اسلام، بعثت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیام عاشورا سمیت مختلف تاریخی واقعات میں ملتی ہیں۔










آپ کا تبصرہ